بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہی کچھ ہے سا قی متا عِ فقیر
انسان کی زند گی خواہ کتنی ہی آزاد اور لا تعلق ہو ‘ پا بند اورمتعلق رہتی ہے ۔انسان دوڑتا ہے ‘ لیکن فاصلوں کی حدود میں۔ انسان اُڑتا ہے اور خلا کی پہنا ئیو ں کے اند ر وہ ارض و سما وات کے اند ر ہی رہتا ہے ۔ انسان جب کسی طا قت کو نہیں مانتا ‘ وہ اُس وقت بھی اپنے انکار کی طا قت کے ما تحت ہو تا ہے ۔ انسا ن کو خو شیا ں تما م تر مسر تیں ‘ کسی نہ کسی غم کی زد میں ہو تی ہیں ۔ ہر غم خو شی بن کر آتا ہے اور ہر خو شی غم بن کر رخصت ہو جاتی ہے۔ بس خوشیوں نے رخصت ضرور ہو نا ہے ۔ پیا ری پیا ری ‘ اپنی بیٹیوں کی طرح _____ کیا کیاِ جا ئے !
انسان شب و روز کے حصار ہی میں جکڑا ہوا سا ہے ۔ وہ صدیو ں سے اس جا ل کو تو ڑنا چاہتا ہے ۔ زما ن و مکا ں تو ڑ کر نکل جانا چا ہتا ہے ۔ نکل کر کہا جا ئے گا _____ ہم د ینا سے بھاگ سکتے ہیں ‘ لیکن اپنے آپ سے کو ن بھا گ سکتا ہے ۔ انسان اپنے پنجے میں ہے ۔ وہ خو د گریز بھی ‘ خو د پر ست و خو د مست بھی ہے ‘ خو د گر و خو د سر بھی ہے ‘ خود بین و خو د کلا م ہے ‘ خود نگر ہے اور سب سے بڑ ی با ت یہ کہ خود شکن ہے ۔
انسان شا ید سمجھتا نہیں کہ وہ اپنی صفا ت ‘ حیا ت ‘اپنی عا دات ‘ لذات‘ شہوات و حیو انا ت ‘ عبا دات واعتقا دات کا مر قع ہے ۔ اُس پر گر دشِ زما ن و مکا ں کے علا وہ بھی کئی گر دشیں گزر جا تی ہیں ۔ اُس پر روز گا رِ زما نہ کے علا وہ بھی کئی زما نے آتے ہیں _____ موسمِ بہار کے علا وہ بھی کئی بہار یں آتی ہیں ۔ اُس کے اپنے اندر کبھی پھو ل کھلتے ہیں ‘ کبھی ببو ل مسکرا تے ہیں ۔ اس کے سا تھ ساتھ روشنی تیر گی کے ادوارسفر کر تے ہیں _____ اُس کا شعور ‘ آزادی کا شعور ‘ اُ س کا اپنا نہیں _____ وہ اپنے ما ضی سے کٹ نہیں سکتا ‘اپنے مستقبل سے ہٹ نہیں سکتا _____ اُس کا حا فظہ ‘اُس کا تخیل ‘ اُسے آزادی کا شعور عطا کر کے اُسے پا بند کر دیتے ہیں۔
انسان اپنے آپ پر غو ر کر تا ہے ۔ اُسے اپنے اند ر ایک جہا ں نظر آتاہے۔وہ اپنی بینا ئی کو دیکھتا ہے ۔ لطف اندوز ہو تا ہے نظاروں سے _____ لیکن وہ یہ نہیں سو چتا کہ بینا ئی دینے والی طا قت نے ہی نظارے پیدا کیے ہیں _____ اب یہی آزاد نگا ہ انہی نظارو ں کی پا بند ہو کر رہ جا تی ہے۔ انسان وہ چیز نہیں دیکھ سکتا جو نہیں ہے ۔ وہی منا ظر جو صدیو ں سے دیکھے جا تے رہے ہیں ‘ وہی سیا رے و ستا رے ‘وہی شمس و قمر ‘ وہی مشر ق و مغر ب اور وہی کو ہ صحرا ‘ قلزم و دریا ‘ وہی با دل ‘ وہی فضا ئیں ‘وہی ہو ائیں ‘ وہی مو سم ‘وہی پرا نے غم اور پرا نی خوشیا ں _____
نیا ا نسان‘ نئی بینا ئی اور نئے عزائم کے سا تھ پُرا نے منا ظر دیکھتا ہے ۔ اُس کے سا منے جوجلو ہ مو جو د ہے ‘ وہ اُس سے پہلے بھی مو جو د ہے اور اُس کے بعد بھی مو جو د رہے گا ۔ آزاد اور جدید انسان نے بڑ ی پا بند ی سے پرا نے نظا رے ہی دیکھنے ہیں ۔ نگا ہ کی آزادی اپنے اند ر ایک حد تک آزاد ہے ۔ دیکھنے والا ایک حد کے بعد نہیں دیکھ سکتا ۔ یہ حد کبھی فا صلو ں کی شکل میں ہے‘ کبھی عمر کے حساب سے ہے ۔ آج کی بینا ئی شاید کل ‘ آج ہی کی طر ح نہ آسکے ۔ جہا ں گلا ب کھلتے تھے ‘ وہا ں اُن آنکھو ں میں مو تیا کھلے گا ۔ آج کا لطف شا ید آئند ہ نہ مل سکے _____ آج کا احساس شا ید آج تک ہی ہو _____ محفل کی گر میا ں تنہا ئیو ں میں یخ ہو جا تی ہیں ۔
آج کی حقیقت کل کا افسا نہ ہو گی ۔ انسان آزاد ہے کہ جو چہر ہ چاہے پسند کر لے لیکن اُس نے صرف ایک ہی چہر ے سے محبت کر نا ہے اور یہا ں آزادی ‘آزاد نہیں رہتی ۔
انسان کے سامنے پھیلی ہو ئی کا ئنا ت اُس کو بہت ہی وسیع نظر آتی ہے او ر اُس کا ئنا ت کے اند ر اُسے اپنے لیے امکانا ت لا محدود نظر آتے ہیں _____ امکا نا ت لا محدود ہی رہتے ہیں اور فیصلے بڑے مختصر اورمحدود _____ شا دی سے پہلے شادی کے امکانا ت لا محدود _____ لیکن فیصلے کے لمحے میں یہ سا رے لامحدود امکا نا ت ایک مختصر اور محدود فیصلے میں ختم سے ہو جا تے ہیں۔انسان سمجھتا نہیں ہے ۔
زند گی کی وسیع شا ہر اہیں آہستہ آہستہ چھو ٹی چھو ٹی سڑ کو ں میں تبد یل ہو جا تی ہیں اور یہ سڑکیں نہ جانے کیسے بند گلیوں میں بدل جا تی ہیں اور امکا نا ت کا طلسم ٹو ٹ جا تا ہے اور پھر وہی انسان سمندِ طاغوت سے گر تا ہو ا زمین پر آرہتا ہے ۔وہ سو چتا ہے کہ یہ سب کیا تھا _____ کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا ‘لیکن بس یہی کچھ ہو ا۔ اگر یہی کچھ تھا ‘ تو یہی کچھ ہی کیو ں نہ تھا _____ وہ سب کچھ کیا تھا ‘جو اب نہیں ہے۔
اپنی قو ت پر گھمنڈ کر نے والا اپنے عجز پر شر مند ہ تو ہو تا ہے‘لیکن اپنی شر مند گی پر مزید عا جز ہو تا ہے ۔ اُس کی قوت اپنے اند ر ہی دم تو ڑ جا تی ہے _____ قواء تو مضمحل ہو ہی جا تے ہیں ۔ عنا صر میں اعتدال تو غا لبؔ کو بھی نہ ملا _____ کسی کو نہیں _____ سب کے ساتھ ایسے ہو تا آیا ہے۔ اپنے آپ میں مگن رہنے والا ‘ خوش با ش ‘ بے فکر نو جو ان ایک دن ادا س ہو جا تا ہے _____ اُس سے کو ئی غلطی سر زد نہیں ہو تی _____ صر ف اُس کا کو ئی بہت ہی قر یبی عز یز فو ت ہو گیا ۔ وہ سو چتاہے‘ عجیب با ت ہے ۔ مر نے والا رخصت کے وقت عجیب تحفہ دے گیا۔ غم دے گیا ‘ خوشی لے گیا ۔ اب یہ غم امانت ہے ۔ ما نگے بغیر ملتی ہے ۔ ہماری آزادی کے چار تنکو ں پر یہ بر قِ آسما نی نا زل ضر ور ہو تی ہے _____ ایسے کیو ں ہو تا ہے ۔ بس یہی تو بے بسی ہے کہ وجو ہا ت و نتا ئج سے با خبر انسان بھی اِس سے بے خبر رہتا ہے کہ آخر آنے والے جاتے کیوں ہیں اور اگر جا نا ہی ہے ‘ تو آنا کیو ں ہے ۔ !
انسان کا علم ‘ جد ید علم بھی آج کے اخبار کی طر ح کی خبر یں دیتا ہے ۔ انسان جسے تا زہ سمجھ رہا ہے ‘ وہ کہنہ ہے _____ یہ جو اں سو رج بہت ہی بو ڑھا ہے _____ یہ ماہتا بی چہر ہ صر ف دور سے دیکھنے والا ہے ۔ یہ حسین و جمیل و جسیم ستا رے ‘ بس اپنی نظر کا دھو کا ہے _____ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آگہی بھی فر یبِ آگہی سے زیادہ نہیں_____ انسا ن ایک خاص وقت میں مقر ر شد ہ لمحے میں پیدا ہو تا ہے اور پھر ایک اور مقر ر شدہ لمحے میں رخصت ہو جا تا ہے ۔ ان دو نقطو ں کے درمیا ن آزادی کا سفر ہے ۔ امکا نا ت اور حا صل کا سفر ہے _____ ساٹھ سا ل کی طویل عمر میں بیس سال نیند کی نذر ہو جا تے ہیں ۔ مجبو ری ہے _____ بچپن اور بڑھاپا اور بیماری کے ایا م نکا ل دئیے جا ئیں تو انسان کے پاس اپنا کیا رہتا ہے ۔ اس پر مستز اد یہ کہ آدھی زند گی بیچ کر با قی کی زند گی کو پا لنا ہے ۔ دفتر و ں کی نذر ہو نے والی زند گی بِک چکی ہے _____ انسان کے پاس اپنے لیے چند سا ل رہ جاتے ہیں۔ اسی مختصر عر صے میں انسان نے سب کچھ کر نا ہے۔بس کچھ نہیں کر سکتا ۔ وہ دیکھتا ہے کہ سفر ختم ہو چلا ہے اور دامنِ مراد خالی ہے ۔ وہ پھردیکھتا ہے ۔ اسے محسو س ہو تا ہے کہ یہ سب کچھ اُس کااپنا نہیں تھا ۔ وہ خود بھی اپنا نہیں تھا ۔ اسے بھیجنے والے نے اِسے اسی کا م کو بھیجا کہ جا ؤ اور پھر آجا ؤ _____ وہ اپنے خالی دامن میں رضا کے پھو ل بھر تا ہے اور پھر پکا ر اُٹھتا ہے
ا سی سے فقیر ی میں ہو ں میں امیر
Urdu Books 

