حضرت وا صف علی واصف ؒ15 جنوری 1929ءکو پیدا ہو ئے ۔ جا ئے پیدائش تحصیل شاہ پور ہے جو کہ ضلع خوشاب کی ایک تحصیل ہے مگر اس وقت شاہ پور ضلع ہوا کر تا تھا اور خوشاب ایک تحصیل۔ آپؒ کے والد ماجد کا اسمِ گرامی ملک محمد عارف صاحب ؒ تھا جن کا تعلق وہاں کے قدیم اور معزز اعوان قبیلے سے تھا ۔اعوان قوم کی ایک ممتاز شاخ کنڈان سے ان کا تعلق تھا ۔ مستند تواریخ کے حوالے سے یہ بات ثابت ہے کہ اعوان قوم کا سلسلہ نصب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔خوشاب میں کنڈان خاندان کے فرد اکٹھے رہتے تھے۔اس جگہ کو محلہ کنڈانوالہ کہتے ہیں۔ 1729ء میں اس قبیلے کے ایک فرد محمد جمال نے ےہا ں رہا ئش اختےار کی۔ ان کی ساتو ےں پشت سے قبلہ واصف صا حبؒ پےدا ہو ئے ۔ محمد جما ل تک واصف صاحب ؒ کا شجر ہ نسب اس طر ح بنتا ہے ۔ واصف علی واصف ولد محمد عار ف ولد محمد اشرف ولد غو ث محمد ولد خےر محمد ولد گھیبہ خا ن ولد نو ر محمد ولدمحمد جما ل اعوان ۔
ابتدا ئی تعلےم خو شاب میں حا صل کی ۔ےکم جو ن 1942ءکو گو رنمنٹ ہا ئی سکو ل خوشاب سے مڈل کا امتحان پا س کےا ۔ اس کے بعد آپ اپنے نا نا کے پا س جھنگ چلے آئے ۔ وہ اےک ممتاز ما ہر تعلےم تھے اور جوانی مےں قا ئد اعظم کے زےر نگرا نی امر تسر مےں مسلم لےگ کے لیے کا م کر چکے تھے ۔ آپ ؒ کے والد صا حب نے فےصلہ کےا کہ بقےہ تعلےم آپ کوجھنگ مےںدلوائی جا ئے ۔ جھنگ مےں دوران تعلےم آپ کے جو ہر خو ب کھلے اور اےک شا ند ار تعلےمی کےرئےر کا آغاز ہو ا۔ آپ فرماےا کر تے تھے کہ ” طا لب علمی کے زمانے مےں مقا بلے کی اےسی دُھن سمائی ہو ئی تھی کہ ہم فرسٹ آنا اپنا حق سمجھتے تھے۔“ مےڑک ےکم نومبر1944ءکو گو رنمنٹ ہا ئی سکو ل جھنگ سے کی ۔ اس وقت بو رڈ کی بجا ئے امتحان پنجا ب ےو نےورسٹی لےا کرتی تھی ۔ آپ نے رول نمبر 26476 کے تحت امتحان دےا اور فسٹ ڈوےژن حا صل کی ۔ اس کے بعد اےف اے2 جنو ری 1948ءکو گورنمنٹ انٹر مےڈےٹ کا لج جھنگ سے پاس کےا ۔ پنجاب ےو نےو رسٹی کے اس امتحان مےں رول نمبر 7809کے تحت فسٹ ڈوےژن حا صل کی ۔ اس کے بعد بی اے19 دسمبر 1949 ءکو گورنمنٹ کا لج جھنگ سے پاس کےا۔ رول نمبر1137 کے تحت ۔ اس مر تبہ بھی فسٹ ڈوےژن حاصل کی ۔ ےہ وہ زما نہ تھا جب سےکنڈڈوےژن تو دور کی بات تھی، بی اے پاس کرنا بھی بڑ ی با ت سمجھی جا تی تھی ۔ آپ نہا ےت خوب صو رت تھے ‘ دراز قد تھے اور اےک مضبو ط جسم کے ما لک تھے۔ دوسری گےمےں بھی کھےلتے تھے مگر سکو ل اور کا لج مےں با قا عد گی سے ہا کی کھےلا کر تے تھے ۔ ہا کی کے بہت اچھے کھلا ڑی تھے ۔1948-49ءکو آپ کو ہا کی مےں حسن کارکردگی پر ” کلر“ دےا گےا ۔ اس کے علاوہ کا لج کی مختلف سر گر مےو ںمےںبڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لےتے تھے ۔ اسی کا لج کی انہی گو نا ں گو ں سر گر مےو ں کی وجہ سے1949ءمےں آپ کو ” اےو ارڈ آف آنر“ دےا گےا۔27 ستمبر1954ءکو آپ کو وےسٹ پا کستا ن پولےس ٹرےننگ کا اعزازی سر ٹےفکےٹ جا ری کےا گےا جس مےں ان کی ٹر ےننگ اور خدما ت کو سراہا گےا ہے۔ اس کے بعد پنجا ب ےو نےو رسٹی سے انگرےزی ادب مےں اےم اے کےا۔ اس دور ان آپ گورنمنٹ کالج لا ہو ر مےں پڑ ھتے تھے اور ہا سٹل مےں رہا کرتے تھے ۔ کا لج مےگزےن جس کا نا م ”راوی “ تھا اس مےں آپ نے کئی مضامےن بھی لکھے تھے جن مےں انگرےزی مےں لکھے گئے دو مضامےن اب تک محفوظ ہےں۔اےک مضمو ن ہا سٹل کی نا گفتہ بہ حا لت پر اور دوسرا فائنل ائےر کلا س کی الوادعی پا رٹی کے مو قع پر لکھا گےا۔ اس دور کے آپ کے کلاس فےلو آج بھی مختلف شعبہ ہا ئے حےا ت مےں مصر وف ِعمل ہےں ۔ 3جون 1954 ءکے پنجا ب گزٹ کے مطا بق آپ نے سول سروس کا امتحان پا س کےا۔ رول نمبر139کے تحت ۔ آپ ؒ نے مختلف مضا مےن مےں اچھے نمبر حاصل کئے ‘خاص طو ر پر جنرل اردو پےپر مےں100 مےںسے61 نمبر حا صل کئے۔ مےرٹ اچھا تھا مگر طبےعت کی انفرا دیت اور دروےشی کے مےلان کی وجہ سے سروس جا ئن نہ کی ، اس کی بجا ئے تدرےس کے شعبے مےں دلچسپی لےنے لگے ۔ کچھ ہی عر صہ بعد آپ نے رےگل چو ک لا ہو ر مےں واقع اےک پنجا بی کا لج مےں پرائےوٹ کلا سو ں کو پڑ ھا نا شر و ع کےا ۔ مگر بعد مےں پرا نی انار کلی کے پاس نا بھہ روڑ پر ” لا ہو ر انگلش کا لج “ کے نا م سے اپنا تدرےسی شعبہ قائم کےا۔ ےہ 1962ءکی با ت ہے۔ آپ کے والد ملک محمد عارف صا حب کا تعلق بھی تد رےس کے شعبے سے رہا تھا۔ آپ کے والد صا حب محکمہ تعلےم سے فا رغ ہو کر لا ہو ر مےں قےا م پذےر ہو گئے تھے ۔ سنت نگر مےں انہو ں نے پہلی رہا ئش گا ہ مےں آکے قےا م کےا۔ ملک صا حب دروےش طبےعت کے مالک تھے اور صو م و صلوٰ ة کے پابند تھے۔ ظہر کی نما ز کے بعد قرآن مجےد کی تلا وت ‘تفسےر حقانی کا مطالعہ اور مثنو ی مو لا نا روم ؒ کاورد ان کی زند گی کا معمو ل تھا ۔ صا حب ِ نسبت بزرگ تھے۔ تونسہ شرےف کے چشتی خا نوادہ سے با قا عدہ منسو ب تھے۔ حضرت خوا جہ غلا م فر ےد ؒ سے بہت عقےد ت و محبت رکھتے تھے۔ واصف صا حب ؒ کے بچپن ہی سے فقر کا سلسلہ چل نکلا۔ جہا ں کہےں کسی بزرگ کا پتہ چلتا اس سے ضر ور ملتے۔ بزرگان ِ دےن کے مزارات پر حا ضر ی کاسلسلہ با قا عدگی سے چلتا رہا۔ اس سلسلے مےںپا کستا ن کے مختلف علا قو ں کے علاوہ ہند وستان کا سفر بھی کےا اور مزارا ت پر حا ضر ی دےتے رہے۔ اےک روز آپ سے کسی نے سوال کےاکہ بچپن مےں آپ پر اس طر ح کے کےا اثرات تھے تو آپ نے فر ماےا کہ بچپن مےں جب بھی اذان سنتا تو مجھ پر اےک کپکپی طار ی ہو جا یا کرتی تھی۔ دےن و دنےا کے علو م پر وسےع مطا لعہ کے مالک تھے۔ےہا ں اےک نہا ےت اہم نکتہ نو ٹ کر نا چا ہےے کہ آپ نے ےہ سب کچھ ان دنو ں مےں کےا جب کہ اپنے کا لج مےں شب و روز انتہا ئی جا نفشانی سے طالب علمو ں کو انگرےزی پڑ ھاےا کر تے تھے ۔ رات گئے تک بھی کلا س لگتی تھی اور پھر نماز ِ فجر کے بعد بھی پڑھا تے تھے ۔ کا لج کے قر ےب ہی پرا نی انار کلی کے مو ڑ پر اےک مسجد تھی ‘ تہجد کی نمازوہا ں پہ با قا عد گی سے ادا کر تے تھے۔ پھر آپ کے کلام کے مسودّہ پر نظر ڈا لےں تو انسان حےران رہ جا تا ہے کےو نکہ اکثر ہر غزل ےا نظم کے سا تھ وقت تحر ےر اور تا رےخ ڈا لی ہوئی ہو تی تھی اور ےہ کلا م صبح دو بجے سے چار بجے کے درمےان لکھا ہو ا ہے ۔کالج مےں باقا عد گی سے لنگر چلتا تھا اور خا ص بات ےہ تھی کہ طا لب علمو ں کے علا و ہ ہر آنے والے کو چا ئے پےش کی جا تی اور آپ ؒ اکثر ان کے سا تھ چائے نو شی مےں شر ےک ہو جا ےا کرتے ۔ کا لج مےںزند گی کے مختلف شعبو ںسے تعلق رکھنے والے اصحاب کی آمدورفت رہتی۔ ان مےں ادےب ‘ شعراء‘ بےو روکرےٹ ‘ وکےل ‘ ملنگ ‘ فقرا ء‘ دروےش اور طا لب علموں کا اےک جم غفےر شا مل تھا ۔ اپنے اپنے ذوق اور طلب کے متعلق سب سےر ہوا کرتے تھے۔ اسی دوران آپ سنت نگر والے مکا ن سے اپنی نئی رہا ئش گا ہ مےں شفٹ ہو چکے تھے ۔ ےہ رہائش گا ہ ملتا ن روڈ کے مغرب مےں واقع رہا ئشی علا قہ گلشن راوی مےں تھی ۔ آپ کی شادی دےر سے ہوئی تھی۔ اس کی وجہ صاف ظاہر تھی ۔ افتادطبع کے علا وہ طبےعت پر دروےشی اور جذب کا رنگ غا لب تھا۔کثر ت ذکر سے ہر وقت چہرہ دمکتارہتا تھا۔ اس صو ر ت مےں تزوےج ےا اس طرح کے دوسر ے معاملات زند گی کی طرف کب خےال جا تا ہے۔ اپنے خےر خواہو ں اور والدےن کے پے درپے اصرار کی وجہ سے شادی پر رضا مندہو گئے ۔ 24اکتوبر1970ءمطابق 22شعبان1390ھ بروز ہفتہ 8 بجے شام آپ ؒ کی سہرا بند ی کی گئی ۔ اور پھر بارات جوہر آباد کے لیے اگلے روز روانہ ہو گئی ۔سب سے پہلے آپ کے ہا ں اےک بےٹے کی ولا دت ہو ئی ‘ نا م کاشف محمود رکھا گےا۔اس کے بعد تےن صا حبزادےا ں ہےں ۔ جن کی عمروںمےں سال ڈےڑھ سال کا فر ق ہے۔ طبےعت مےں اےک خا ص وصف ےہ تھا کہ ازخود کم لکھتے ےا بو لتے تھے جب کوئی سوال آپ کے سامنے پےش کےا جا تا تو اس کے مطابق گو ےا ہو ا کر تے تھے اےک شخص نے ازراہ مذاق کہا کہ آپ شاعری نہےں کرسکتے ، ےہ مشکل کام ہے ۔ اس رات آپ نے تےن سو اشعار لکھے ۔اس کے علا وہ مختلف اخبا رو ں اورجرائد مےں آپ کا کلا م چھپا کر تا تھا ۔چند اصحا ب کے اصرار پر ےہ کلام جمع کےا گےا اور عارف نو شا ہی سے کتا بت کر ائی گئی تو آپ کی پہلی تصنےف منظرِ عام پر آئی ۔ےہ 1978 ۸۷۹۱ کی بات ہے ۔ مجمو عہ کلام کا نا م ” شب چرا غ “ رکھا گےا۔ اس مےں آپ کے کا لج کے زما نے کی اےک نہاتے پر شکو ہ اور جلال و جمال سے مر قع فو ٹو گراف بھی تھی ۔ اس کی تقر ےب رو نما ئی مےں آپ کے بہت سے عقےد ت مند اور اہل علم حضرات شا مل ہو ئے اس کے بعد رشد و ارشاد کا اےک لا متنا ہی سلسلہ چل نکلا ۔ ےہ دور انتہا ئی مصر وفےت اور محنت کا دور تھا ۔ جب لو گو ں کی تعداد بڑھنا شر و ع ہو گئی تو گفتگو نے ” محفل “ کا رو پ اختےا ر کر لےا ۔ مختلف مقا مات پر محفل جمنے لگی تھی ۔ شر وع شروع مےں محفل کی با قا عد ہ شکل لا ہو ر کے مشہو ر اور مصر وف مقام ” لکشمی چو ک “ مےں بننی شروع ہوئی ۔ اس کے بعد قذافی سٹےڈےم مےں واقع فزےکل ٹر ےننگ کے ادارے مےںمحترم نےا زی صا حب مرحو م کے ہاں محفلو ں کا اےک طو ےل سلسلہ شروع ہو ا ۔ ےہا ں پر اےک ہزار راتےں آپ ؒ نے خطاب کےا ۔مختلف موضوعات پر لو گ سوالا ت کےاکر تے اور آپ ان کے جواب دےا کرتے۔ بعد مےں ےہ سلسلہ آپ کی قےام گاہ پر شر وع ہو ا۔ 1984 ۴۸۹۱ ءمےں آپ کو اےم اے او کا لج لاہور کی ” مجلس اقبال “ کے اےک پر وگرام مےں مد عو کےا گےا اور اےک محفل وہا ں بھی جمی ۔ چےد ہ چےد ہ اہل علم اور اہل ِ قلم اصحاب نے آپ ؒ سے مختلف سوالات کئے ۔ اس کی ر وداد روزنامہ نو ائے وقت مےںشائع ہو ئی تو قا رئےں کی اکثر ےت نے اصرار کےاکہ واصف صا حب ؒ کی تحر ےر کا کوئی باقاعدہ سلسلہ ہو ناچا ہےے ۔ تب آپ ؒ نے نو ائے وقت کے لیے کا لم لکھناشر و ع کےا ۔ پہلا کا لم ” محبت “ کے عنوان سے شائع ہو ا ۔ ند رت کلا م اور تا ےثر کا ےہ عالم تھا کہ لو گوں نے دھڑا دھڑآپ سے را بطہ کرنا شروع کر دےا اور اپنے دےنی ‘ دنےا وی اور روحا نی مسا ئل کے حل کے لےے آپ کو مستجا ب پا ےا ۔ 1986۶۸۹۱ء مےںآپ کے عقےدت مند و ں نے آپ کے فرمودات کو جمع کےااور اس طر ح آپکی پہلی نثر ی تصنےف شائع ہو ئی ۔ اس تصنےف ےعنی ” کر ن کرن سورج “ کو جمع کر نے مےں محتر م اکرام چغتائی ‘ اوررےا ض احمد صا حب کی کو ششےں شامل تھےں ۔بعد کی تصانےف کی اشاعت مےں محترم اکرام چغتا ئی اور اعجا ز الحق صاحب کا بڑا ہا تھ تھا ۔ آپ کے مضامےن کا مجموعہ ” دل درےا سمند ر “ کے نا م سے 1987 ۷۸۹۱ءمےں شا ئع ہو ا۔ ” قطرہ قطرہ قلزم “ 1989۹۸۹۱ء مےںشائع ہوئی ۔ اس کے بعد ” کر ن کر ن سورج“ کا انگر ےزی تر جمہThe Beaming Soul کے نام سے شا ئع ہو ا۔ 1994۴۹۹۱ءمےں مضامےن کی کتاب ” حر ف حر ف حقےقت “ ‘ پنجا بی کلا م ” بھر ے بھڑولے “ اور اردو کلا م ” شب راز “ 1995۵۹۹۱ ءمےں فر مو دا ت پر مبنی کتاب ” بات سے بات “ اور 1996 ۶۹۹۱ ء مےںآپ کی محفلو ں کے سوالا ت اور جوابات پر مبنی کتا ب ” گفتگو “ شائع ہوئی ۔ جناب حضرت واصف علی واصف کااےک فرمان ہے کہ ” عظےم لو گ بھی مر تے ہےںمگر موت ان کی عظمت مےں اضافہ کر تی ہے۔ “ ےو ں تو آپ نے 18۸۱ جنو ری 1993 ۳۹۹۱ بمطابق 24۴۲رجب 1415 ۵۱۴۱ھ کی سہ پہر کواس دارفانی سے آنکھےں مو ند لی تھےں مگر آج ہم دےکھ رہے ہےں کہ ان کے علم و عرفا ن کانو ر ہر سو پھےلتا ہی جا رہا اور پھےلتا ہی جا ئے گا۔ ےہاں تک کہ ان کا اصل مقصد تخلےق پورا ہو جا ئے گاےعنی ” اسلا م کی نشا ہ ِ ثا نےہ ۔“ ا س با رے مےںآ پ ؒ کا فر مان ہے کہ اس صدی کے ختم ہو نے سے قبل ہی دنےا اسلام کا وہ جلو ہ دےکھ لے گی جس کا صدےو ں سے انتظار ہے ۔